Friday, July 3, 2009

ایک ارب پتی فراڈیے کا پینسٹھ ارب ڈالر کے فراڈ کے وجہ سے 150 سال کی سزا

امریکہ کی ایک عدالت نے پینسٹھ ارب ڈالر کے مالیاتی فراڈ کے سرغنے ستر سالہ برنارڈ میڈاف کو ایک سو پچاس سال قید کی سزا سنائی ہے۔
برنارڈ میڈاف نے اعترف جرم کرتے ہوئے عدالت سے کم سزا کی درخواست کی تھی جو عدالت نے قبول نہیں کی۔ جج نے کہا کہ وہ ایک ایسی سزا سنانا چاہتے ہیں جس سے یہ پیغام جائے گا کہ ان کا جرم انتہائی گھناؤنا تھا۔
میڈاف نے عدالت کی طرف سے سزا سنائے جانے سے پہلے کہا کہ وہ اپنے خاندان کے لیے ’شرمناک ماضی‘ چھوڑنے پر معافی کے طلبگار ہیں۔ مالیاتی بحران کے شروع ہوتے ہی نیویارک کے ارب پتی سرمایہ کار برنارڈ میڈوف کا ہیج فنڈ ڈوب گیا تھا۔ اس ہیج فنڈ کی ناکامی کو امریکہ کی تجارتی منڈی وال سٹریٹ کی تاریخ کے بدترین مالی سکینڈلز میں سے ایک ہے۔
دنیا کے بڑے بینک جن کے فنڈ ڈوب گئے ہیں ان میں برطانیہ کا رائل بینک آف سکاٹ لینڈ، سپین کا سینٹینڈیر، فرانس کا بی این پی پاریبا اور شنگھائی بینک شامل ہیں۔

No comments:

Post a Comment